رایبریلی (ایس او نیوز/ڈی جے). اُترپردیش کے رائے بریلی کے قریبی دیہات اپٹا میں ایک خاتون پنچایت صدر کے مکان پر فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش میں حملہ آورو ں کی کار آگ کی نذر ہوگئی اور پانچوں حملہ آور کار کے اندر ہی زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیسوں کے لین دین کے تعلق سے پیر کی رات قریب نو بجے پانچ افراد اپٹا دیہات پہنچے اور پنچایت صدررام شری کے مکان پر فائرنگ کرنے لگے، فائرنگ کی آواز سنتے ہی گائوں والے بڑی تعداد میں جمع ہوگئے ، جنہیں دیکھ کر حملہ آوروں نے بھاگنے کی کوشش کی، بتایا گیا ہے کہ اس پر دیہاتیوں نے کار کا پیچھا کیا، بعد میں ان کی کار آگ کے شعلے کی لپیٹ میں آگئی اور کار پر سوار پانچوں افراد کار کے اندر ہی زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔
کار کو آگ لگنے کے تعلق سے متضاد خبریں موصول ہوئی ہیں، بتایا جارہا ہے کہ دیہاتیوں نے فرار ہونے والی کا پیچھا کرکے اُسے آگ کے حوالے کردیا، البتہ دیہاتیوں کا کچھ اور کہنا ہے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بزرگ دیہاتی نے بتایا کہ پیر کی رات تقریبا نو بجے سفاری کار پر سوار لوگ گرام پردھان رام شری کے گھر پہنچے. حملہ آوروں نے را م شری کے گھر پر تابڑ توڑ فائرنگ شروع کر دی. گولیاں چلنے کی آواز سن کر دیہاتی لوگ متحد ہوکر حملہ آوروں کو پکڑنے کے لئے دوڑے. اس پر حملہ آور کار پر سور ہوکر بھاگنے لگے۔ تبھی ان کی گاڑی بجلی کے ایک کھمبے سے ٹکراکر پلٹ گئی. جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور اس پر سوار پانچوں افراد کی موت واقع ہو گئی. جان بچانے کے لئے تین افراد گاڑی سے باہر نکل آئے تھے، لیکن ان کی بھی جان نہیں بچ سکی.
اس دوران گاؤں کے لوگ بھی مشتعل ہوکر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے. پھرپولیس پہنچی لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی. ہنگامہ بڑھنے کے بعد گرام پردھان کا خاندان بھی فرار ہو گیا. گاڑی میں آگ کس طرح لگی آیا ہجوم نے گاڑی کو آگ کے حوالے کیا تھا یا پھر بجلی کے کھمبے سے ٹکرانے سے یہ حادثہ ہوا،اس کی تفتیش کی جارہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو سنگھ بھی اپنے عملہ کے ساتھ تقریبا 9.45 بجے جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے. لاشوں کو آنا فانا قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے. دیر رات تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو سنگھ نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے. جلد ہی قصورواروں پر کارروائی کی جائے گی.